اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایک روزہ عراق کا دورہ کیا اور اس مختصر فرصت میں انہوں نے اس ملک کے وزیر اعظم، صدرجمہوریہ، پارلیمنٹ اسپیکر اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے سربراہان بلکہ حشد الشعبی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔
ڈاکٹر ظریف نے اپنے اس مختصر دورے میں، نہ صرف عراقی سیاسی عہدیداروں سے ملاقات کی ، بلکہ ملک کی سیاسی دھڑوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقات اور گفتگو کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ متحدہ عراق کے ساتھ باہمی تعامل ہمیشہ ایران کے ایجنڈے میں رہا ہے۔
وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ ایران عراق کی قانونی حکمرانی کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ سیاسی دھڑوں خصوصا حشد الشعبی کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کا مقصد مزاحمتی محاذ کی حمایت اور اس کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان ہے۔
ڈاکٹر ظریف کے سفر کا نقطہ آغاز شہید قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی جائے شہادت کی زیارت سے ہوا جو اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ ایران اور عراق ان دو شہیدوں کے قاتلین کے مقابلے میں متحد اور عراق پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کو پسپا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری جانب عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے آئندہ منگل کو ہونے والے ایران دورہ میں دونوں ممالک کے مابین ۲۰ ارب ڈالر کے معاشی اور تجارتی تبادلے کے حصول کے لیے مقدمات فراہم کرنا تھے۔ ایران پر لگی امریکی پابندیوں کے دور میں عراق ایران کے بہترین دوستوں اور ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ لہذا ایسے حالات میں عراقی وزیر اعظم کا ایران دورہ بھی کافی اہمیت کا حامل ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲